بنگلورو،19؍اکتوبر(ایس اونیوز)کرناٹکا پبلک سرویس کمیشن کی طرف سے 2011 میں 362گزیٹیڈ پروبیشنر کی بھرتی کرتے ہوئے جو احکامات جاری کئے گئے تھے کرناٹکا اڈمنسٹریٹیو ٹریبونل نے آج انہیں جائز قرار دیا اور ان تقررات کو روکنے کیلئے 2014 میں حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے حکمنامہ کو کالعدم قرار دے دیا۔حکومت نے 2014 میں ان تقررات میں مبینہ بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تمام تقررات کو منسوخ کردیاتھا۔ کرناٹکا اڈمنسٹریٹو ٹریبونل نے تمام سرکاری تقررات کو جائز قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے جاری فرمان کو باطل قرار دیا اور تمام 362 امیدواروں کو دو ماہ کے اندر باضابطہ ملازمت دینے ریاستی حکومت کو احکامات جاری کردئے۔ 2011 میں جو بھرتیاں کی گئی تھیں ان امیدواروں کو بروقت تقرر نامے نہیں دئے گئے تھے،اور 2014میں ان تقررات کو حکومت نے منسوخ کردیاتھا۔حکومت کے اس فیصلے کے خلاف امیدواروں نے احتجاج کی روش اپنائی اور فریڈم پارک میں بھوک ہڑتال کے بعد کے ای ٹی سے رجوع ہوئے۔ تمام مباحثوں کو سننے کے بعد عدالت نے امیدواروں کے حق میں فیصلہ سنایا اور دو ماہ کے اندر ان تمام کو بھرتی کرنے ریاستی حکومت کو سخت ہدایت دی۔